ابنا: حشین شیخ الاسلامی نے پارلیمنٹ نیوز سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب اور قطر فرانس، امریکہ اور برطانیہ جیسی سامراجی طاقتوں کے اکسانے پر شام میں سرگرم عمل دہشتگرد گروہوں کو ہتھیار فراہم کررہے ہیں تاکہ کوفی عنان کا منصوبہ ناکام ہوجائے اور شام کی فوج اور دہشتگردوں میں دوبارہ جھڑپیں شروع ہوجائيں۔ انہوں نے کہا کہ شام میں بیرونی ملکوں کی مداخلت کا مقصد خانہ جنگي شروع کروانا ہے۔ حسین شیخ الاسلامی نے کہا کہ شام میں مداخلت کرنے والے ممالک ظاہری طور پر کوفی عنان کے منصوبے کی حمایت کرتےہیں لیکن دراصل ایسے اقدامات کررہے ہیں جن سے کوفی عنان کا منصوبہ ناکام ہوجائے تاکہ شام پر اقوام متحدہ کے منشور کی ساتویں شق عائد کردی جائے۔ اقوام متحدہ کی ساتویں شق کے بہانے سے کسی بھی ملک میں فوجی مداخلت کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شام پر اقوام متحدہ کی ساتویں شق عائد کردی جاتی ہے تو شام میں مبصرین کی جگہ پر محافظ امن فوج تعینات کردی جائے گي جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ شام صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمت کی حمایت نہیں کرسکے گا اور اسکے بعد سازشوں کےتحت سیاسی نظام کے خلاف ایسے اقدامات کئےجائيں گے جن کے زیر اثر شام کی حکومت مزاحمت کی مخالف ہوجائے گي۔ شیخ الاسلامی نے کہا کہ مصر میں حسنی مبارک کی سرنگونی سے صیہونی حکومت کو شدید دھچکا لگا ہے جس کے بعد سامراج نے اس کی تلافی کرنے کےلئے شام سے بدلہ لینے کی ٹھانی ہے اور بشار اسد کی حکومت گرانے کی سازشیں شروع کی ہیں لیکن صدر بشار اسد نے مغرب کو مراعات دینے کے بجائے آئين میں اصلاحات کیں اور اس پر ریفرینڈم کرایا ہے۔
......
/169